ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اردواساتذہ کی تقرُرِی میں نتیش حکومت کارویہ متعصبانہ،آل انڈیامسلم بیداری کارواں نے کیااحتجاج کااعلان

اردواساتذہ کی تقرُرِی میں نتیش حکومت کارویہ متعصبانہ،آل انڈیامسلم بیداری کارواں نے کیااحتجاج کااعلان

Mon, 01 Aug 2016 20:57:59    S.O. News Service

دربھنگہ یکم اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )سالوں سے اُردو اساتذہ کی تقرری کا معاملہ التوا میں ہے۔ حکومت کے بار بار جھوٹے اعلانات سے پریشان اُردو اساتذہ کئی بار سڑکوں پر احتجاج بھی کرچکے ہیں لیکن حکومت ان کے ساتھ لگاتار دھوکہ کرتی آرہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دوسری حکومتوں کی طرح بہار کی عظیم اتحاد والی حکومت بھی اقلیتی طبقہ ساتھ بھیدبھاؤ کررہی ہے۔جب کہ پچھلے اسمبلی انتخاب میں اقلیتی طبقہ نے ایک طرفہ 84 فیصد ووٹ دے کر عظیم اتحاد کو بڑی کامیابی دلانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔واضح ہوکہ بہار میں سرکاری اسکولوں کے اندر گذشتہ کئی سالوں سے اُردو کے اساتذہ کے نہیں ہونے کی وجہ کر 27000 عہدوں پر اُردو اساتذہ کی تقرری کے لئے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اعلان کیا تھا لیکن اس کو زمینی سطح پر لانے کے لئے نہیں وزیرتعلیم ساتھ دے رہے ہیں اور نہ ہی حکومت بہار۔مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم نے ایک پریس بیان میں کہی۔مسٹر عالم نے کہا کہ اُردو اساتذہ کے نہیں ہونے کی وجہ کر لاکھوں بچے اُردو کی تعلیم سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ اُردو کی تعلیم کو ختم کرنے کیلئے جہاں ریاستی حکومت سازش کررہی ہے وہیں بڑی تعداد میں اقلیتی طبقہ کے اساتذہ کوبحالی کے نام پربے روزگار بناکر بھیک منگوانے کا بھی منصوبہ بنالیا گیا ہے جسے کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔میں حکومت بہار اور وزیرتعلیم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس سیکولر کا نعرہ دے کر آپ نے بہار میں حکومت بنائی ہے کہ کیا یہ سیکولرزم کی پہچان ہے کہ ایک طبقہ کو بے روزگار بناکر اس کے آنے والی نسل کو تعلیم سے روکا جائے اور اُسے صرف ووٹ بینک بناکر انتخاب کے استعمال کیا جائے۔بہار کے بہت سارے کالجوں میں بھی اُردو کے اساتذہ نہیں ہونے کی وجہ کر بچے اُردو کی تعلیم حاصل نہیں کرپارہے ہیں۔اسپیشل اُردو ٹی ای ٹی بنگلہ متاثر کی اپیل کو حکومت نظرانداز نہ کرے اور جتنی جلد ممکن ہو اُردو اساتذہ کی بحالی کو یقینی بنائے۔اگر حکومت نے اس بار بھی اساتذہ کی اپیل کو مسترد کیا تو آل انڈیا مسلم بیداری کارواں ریاستی حکومت کے اقلیت مخالف رویہ کے خلاف ساتھ ہی اُردو کی تعلیم کو ختم کرنے کی حکومت سازش کے ساتھ ساتھ اُردو اساتذہ کی بحالی نہیں کئے جانے جیسے دیگر مسائل کو لیکر پورے بہار میں آندولن شروع کرے گا اور جب تک اقلیتوں کے حقوق نہیں مل جاتے تب آندولن جاری رہے گا۔وہیں مسٹر نظرعالم نے تمام مسلم لیڈران، ملی تنظیموں کے سربراہوں اور سماجی کارکن سے بھی یہ اپیل کی ہے کہ وہ اُردو اساتذہ کی بحالی کو یقینی بنانے میں ٹی ای ٹی والوں کی حمایت میں آگے آئیں اور حکومت پردباؤ بنائے تاکہ حکومت پر اس کا اثر پڑے اور بے روزگار اساتذہ کو روزگار مل سکے ساتھ ہی اُردو کی تعلیم سے دورہورہے ہمارے بچوں کواُردوکی تعلیم مل سکے۔ یاد رکھئے ہمارا اتحاد ہی ہماری کامیابی کا ضامن ہے۔ اس معاملے کو کسی کا انفرادی معاملہ نہ سمجھیں اوراساتذہ کی حمایت میں سڑکوں پربھی اُترنے کی ضرورت پڑے تو متحدہوکرحکومت کی اقلیت مخالف پالیسی کے خلاف سڑکوں پراُترنے کی پوری تیاری کریں۔


Share: